Ad Code

Responsive Advertisement

Moral stories in urdu & hindi || sultan mehmood ghazanwi

 اسلام و علیکم!

اج کی پوسٹ میں ایک سلطان کی کہانی پیش کروں گا.

سلطان محمود اپنی رعیابکا بہت خیال رکھتا تھا.اور اس کی یہ عادت تھی کہ وہ راتوں کو اپنے محل سے نکل جاتا اور شہر میں پھرتا رہتا تھا. جائزہ لیتا تھا کہ اس شہر کی ابادی کس حال میں ہے.

ایک دفعہ کا زکر ہے کہ سلطان اپنے معمول کے مطابق اپنا لباس بدل کر شہر میں پھر رہا تھا.اور اس نے  ایک جگہ پر دیکھا کہ چند لوگ اکٹھے جا رہے ہیں.

سلطان جلدی سے ان کے نزدیک گیا.اس نے ان لوگوں کو دیکھا اور اسے یہ محسوس ہو کہ یہ لوگ چور ہیں.جو چوری کرنے کے لیے جا رہے ہیں.

وہ چور سلطان کو  دیکھ کر بہت خوف زدہ ہوگئے.انھوں نے دیکھا کہ ادھی رات کو ہماری طرف کون ارہاہے.

چوروں نے سلطان کو نہی پہچانا تھا.اور وہ اس کو کہنے لگے کہ تم کون ہو؟ اور ان کے یہ سوال کہنے پر سلطان نے جواب دیا میں بھی اپ کی طرح ایک ادمی ہوں.اور اس جواب پر چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی طرح ایک چور ہے.جو چوری کی نیت سے باہر ایا ہوا ہے.

تو اس کے بعد انھوں نے اطمنان کے ساتھ  سانس لیا.سلطان نے ان سے سوال کیا کہ تم رات دئر گئے کیا کر رہے ہو.ان چوروں نے جواب دیا جس ارادے سے تم ادھر پھر رہے ہو.ان کا کہنا تھا کہنا تھا کہ چوری کی نیت سے.

سلطان نے ان سے کہا  کہ تم لوگوں نے چوری کرنی ہے تو بڑی چوری کرو جس کو تم پوری زندگی بیٹھ کر کھا تو سکو.اور اس کے بعد تم کو چوری کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو.میں اپ کو ایک مشورہ دیتا ہو کہ اپ شاہی محل کی چوری کرو جس سے اپ کو بہت بڑی دولت تو ہاتھ اجائے.

جب چوروں نے یہ بات سنی تو ان کو یہ بات بہت ہی اچھی لگی.اور سلطان کی اس جرات پر عش عش کر اٹھے.اور کہنے لگے کہ تم تو بہت ہی بہادر اور دلیر ہو. شاہی محل کی چوری کرنا تو ہمت والے انسان کی بات ہے.

Moral stories in urdu

تم ایسی  بات کرتے ہوئے تھوڑا سا بھی ڈر نہی محسوس کیا.اب سے ہم اپ کو اپنا سردار مانتے ہیں.

اور تم جو بھی حکم دو گے ہم اسکی اطاعت کریں گے.

لیکن جو یہ شاہی محل والا کام ہے یہ تھوڑا سا مشکل ہے.

اس پر سلطان نے کہا کہ میرے ہوتے ہوے اپ کو  ڈرنے کی ضرورت نہی ہے.ہر مشکل کو اسان سمجھو اور ڈرنا نہی ہے.


اب اپ لوگ تیاری کرو اج ہی   شاہی محل کو  لوٹا جائے گا.اس کام کے کیے ایک منصوبہ بنا لیتے ہیں.تاکہ اس کام میں ہم کو اسانی رہے.جس سے یہ کام جلد سے جلد ہو جاے. سب سے پہلے ہر ایک اپنا اپنا کمال بتائے جس میں وہ ایک صفت رکھتا ہو.

ان سب نے اپنا اپنا باری باری کمال بتانا شروع کر دیا.

اس میں سے ایک چور نے بتایا کہ میں یہ کمال رکھتا ہوں کہ جس جگہ پر خزانہ رکھا ہے وہاں سے مجھے اس خزانے کی خشبو ا جاتی ہے.اس کے بعد دوسرے چور نے کہا! کہ میں یہ کمال رکھتا ہوں اگر میں اندھری رات میں کسی کو دیکھ لوں تو میں اسے پہچان لوں گا.اور اس کے بعد میں روشنی میں اس کو پہچان لیتا ہوں.اس کے بعد 3چور نے کہا کہ میں یہ کمال رکھتا ہوں کہ کتا جو کچھ بھی بول رہا ہو میں اس کو اپنی زبان میں سمجھ لیتا ہوں.اور اس کے بعد چوتھے چور نے کہا کہ میں ایک کام میں خصوصی کمال رکھتا ہوں کہ جب میں جب بھی محل کی دیوار بلند ہو میں اس ر رسی ڈالتا ہوں تو دیوار پر جاکر فٹ ہو جاتی ہے. جس سے ہم سب کوگ جلدی جلدی محل کے اندر جا سکتے ہیں.

اس کے بعد جب چاروں چوروں نے اپنا کمال بیان کر دیا تو اس کے بعد سلطان سے کہنے لگے  اے ہمارے سردار ہم نے تو اپنا کمال بتا دیا ہے. اب اپ اپنا کوی کمال بتاؤ.سلطان نے کہا میرا کمال سب سے الگ ہے.کہ جب سب چور پکڑے جا چکے ہوں اور اس کے ان کو موت کی سزا دی جا چکی ہو اور ان چوروں کا سر قلم کرنے کو کہا گیا ہو تو میں اپنی داھڑی کو کہجا کر ان سب کو بچا سکتا ہوں.یہ کمال سن کر سارے چور حیران ہوگئے.اور اس کے ساتھ ان مجرم کی جان بھی بخشی جاسکتی سکتی ہے.

اس کے بعد ان سب چوروں بے کہا کہ یہ کمال تو بہت ہی اعلی ہے.اس کمال کے ہوتے ہوے ہم کو تھوڑا سا بھی نئ ڈرنہ چاہے.

اس کے بعد وہ شاہی محل کی چوری کے لیے روانہ ہوے.اور جاتے جاتے راستے میں ایک کتا ان کو دیکھ کر بھونکا وہ چور جو اس کی اواز کو سن کر پتا لگا سکتا تھا کہ یہ کیا کہ رہا ہے. تو اس کے بعد سب چور اس سے پوچھنے لگے کہ  یہ کتا کیا کہ  رہا ہے.اس نے ان کو جواب دیتے ہوے کہا کہ دوستو جو اس کتے نے کہا ہے میں اس سے بڑا حیران ہوں اس نے کہا ان  چوروں میں سے ایک بادشاہ ہے.یہ اپ لوگوں کو یقین نہی اے گا.یہ کتا جو بھی کہہ رہا ہے میں اس کو سمجھ رہا ہوں.یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے ایک بادشاہ ہے.

وہ بہت حیران ہوا کہ یہ جو کتا کہہ رہا ہے. یہ سچ ہے.مجھے تو اس بات پر یقین نہی ہو رہا ہے.ایک چور نے کہا کہ کتے کے کہنے کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ سب شاہی محل کی چوری کرنے جا رہے ہیں.چوری کرنے کہ بعد سب کے سب بادشاہ بن جاے گے.اس چور نے کہا اس کا جو مطلب سمجھو میں وہ بتا رہا ہو جو یہ کتا اس وقت کہ رہا ہے.

اور اس کے بود وہ سب بادشاہ کی دیوار کے ساتھ پہنچ گئے.اور دوسرے چور سے کہا کہ تم اپنا کمال دیکھو تو اس نے دیوار پر کمند ڈالی اور وہ دیوار پر فٹ ہوگئ.اور اس کے بعد سب دیور پار کر کے اندر داخل ہوگئے.اس کے  بعد اس چور کی باری تھی جس نے خزانے کا بتانا تھا.اس سے کہا گیا کہ اب تم خزانے کا پتا بتاؤ کہ خزانہ کہاں پر رکھا ہو ہے. اس کے بعد ان چوروں کو خزانہ مل گیا اور وہ چور جس راستے اے تھے اس راست سے دوبارہ چلے گئے.ان اب خزانہ مل چکا تھا.جب وہ خزانہ لے گئے تھے اس وقت تک صبع نی ہوی تھی.اور ابھی تک اندیھرا باقی تھا.اور سلطان نے کہا کہ یہ خزانہ ابھی ہم لوگ تقسیم نہی کرتے ہیں.اگر ہم لوگوں نے خزانہ تقسیم کیا اور اپبے اپنے گھر لے گئے تو ہمارے لیے بہت ہی مشکل ہو جاے گی.بادشاہ اپنے ادمیوں کو کہ کر سب گھر کو چک کرواے گا جس سے ہم بہت بڑی مشکل میں پھنس جایں گے.سلطان نے کہا کہ اپ سب اپنے اپنے گھر کا پتا بتا دو جب بادشاہ اس خزانے کو ڈھنڈ کر تھک جاے گا تو اس کے بعد ہم لوگ اس خزانے کو تقسیم کر لیں گے.

اور انھوں نے اپنا اپنا گھر دیکھایا اور سب اپنے اپنے گھر چلے گئے.اس کے بعد سلطان اپنے محل میں اگیا اور اپنی نوکروں سے کہا جاؤ ان سب چوروں کو پکڑ کر لے اؤ. بادشاہ کے نوکر گئے اور ان سب کو پکڑ کر گھر لے اے.سلطان نے اپنے لباس تبدیل کر لیا تھا.اس کے بعد اس جج نے ان کو سزا سنا دی تھی.ان چوروں نے کہا اگر ہمارا ساتھی ہوتا تو وہ ہم لوگوں کو بچا لیتا تھا.اور اس کے بعد  سلطان نے کہا کہ ان چوروں کو میرے سامنے لے اؤ.کوی ان کی اخری جوہش ہو جو میں پوری کر دوں.اس کے بعد  ان میں سے ایک چور نے بادشہ کو دیکھا تو اس نے کہا کہ یہ رو ہمارا 5 ساتھی ہے. وہ اپس میں ایسے بھیس کرنے لگے اور اخر کار سلطان نے کہا میں ہی اپ کا 5 ساتھی ہوں. اس نے کہا اب اپ اپنی داڑھی کو پیھلاو اور ہم لوگوں کو بچا لو. اس کے بعد سلطان نے ایسا ہی کیا اور ان کو سر قلم کرنے سے بچا لیا اور  ان چوروں نے یہ سبق لے لیا کہ اب سے دل لگا کر محنت کریں گے.اور چوری والا کام چھوڑ دیں گے.

Hope you like this post...


Reactions

Post a Comment

1 Comments