Ad Code

Responsive Advertisement

لبنان کا ہال کیا ہوگا جنیں اس بلاگ پر

 لبنان کا ہال کیا ہوگا

لبنان میں حکومت بنانے والی کوششیں ناکام ہوگئ ہیں.ان کے ہال اتنے خراب ہو گئے ہیں.اس میں کوئ قابل قبول زریعے نہیں ہیں.اب اس کا ہال اس کے ماضی کی طرح تاریک نظر ا رہا ہے. وزیراعظم ادیب نے ستمبر کے اخر میں استفعی دے دیا تھا.اس نے کموبیش ایک ماہ تک  نیو حکومت بنانے کی کوشش کی.اس میں فرانس کے صدر کی احمایت بھی شامل تھی.6/اگست کو لبنان میں ہونے والے دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا.اس دھماکے کے  بعد وزیراعظم ایاب نے استیفی دے دیا تھا.لبنان کا اصل جھگڑا وزارت خزانہ پر تھا.

ان کے یہ جھگڑے نے پوری معشیت کو خراب کر رکھا تھا.سیاست کی ناکامی کی وجہ سے اس نے تمام عوام کو الجھن میں رکھا ہوا ہے.ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں. کہ سیاست خود ناکام اور بے حس ہے تو یہ عوام کو کیسے جینے دے گی.فرانس کے صدر نے ایک بات واضع کر دی تھی.کہ جب تک سیاسی اخطلافات دور نہی کیے جاسکتے ہیں .تب تک لبنان کو قومی امداد نہی مل سکتی ہے.ملک ایران کی حمایت یافتہ  ملیشیا کی ظرف میں ہے.امل  ملیشیا کے ساتھ مل کر 

 حزب اللہ چاہیتی ہے.کہ وزیرخازانہ اسے دی جاے.اب تک وزیر خزانہ پر شیعہ عصطرب رہا ہے.ایران میں بے روزی عروج پر ہے.یہ بہت مقروز ملک ہے.اگر ان کو ای ایم ایف سے کوی بڑا پیکیج نہ ملا تو اس ملک کی حالت اور ہی بگڑ جاۓ گئ.اور اس کا حشر  وینزویلا سے بھی برا ہوگا.اس سرکار میں تنخواہ ویسے ہی کم ہیں.اور اب ان کی حکومت نے  بینک ڈپازٹس کو بھی کنٹرول کرنا شروع کردیا ہے.   فرانس کی مدد سے لبنان کے لیے کم سے کم دس ہزار ڈولر کا پیکیج منزور ہوا ہے.امداد دینے والے ممالک  لبنان سے  احتساب کا مطالبعہ کررہے ہیں.تاکہ بداعنوانی والے ممالک سے جان جھوٹے اور فنڈ ضرورت مند لوگوں کو ملے. لوگ ماضی کو یاد کرتے ہی کانپ اٹھتے ہیں. بیروت کی بند گاہ اور اس کے علاقے میں بہت تبہای ہوئ اور  تعمیرے نوع کے لیے کموبیش 15ارب ڈولر درکار ہوےتھے.لوگ اس بات پر حکومت سے سخت نراض ہیں.کہ2759ٹن امونیم طویل عرصے کے لیے وہاں کیوں رہنے دیا گیا.ایک سال بعد حکومت نے واٹس ایپ پر ٹکس لگیا تھا.اور اس کے بعد عوام بھڑک اٹھی تھی.اس کے بعد سعد کو مستعد ہونا پڑا تھا.عوام کا مطالبہ ہے کہ پورے سسٹم کو ہالنگ کی جاے. تمام جمعتوں کا  محاعسہ بھی زور پکڑ گیا تھا.سیاسی جمعتوں نے بڑی بے رحمی سے قومی وصائل سے لوٹا تھا.حدیہ ہے کہ ملک  میں بنیادی سہلتوں کا نظام بھی تباہ کر دیا تھا.

لبنان کے دوسرے دوست بھی پریشان ہیں کہ وہ مسلح گروپوں  کو ملک کے لیے  بہت بڑا خطرہ گنتے تھے.مگر ان سے نمٹنے کے طریق سب کے مختلف تھے.


میکراں نے ایران کے غیر معمولی  اژر نفوز کا  سوال اٹھایا.اس کا یہ بھی کہنا تھا  حزب اللہ کا انداز کسی بھی طور  سیاسی جماعت کا نہی ہے. اس نے امریکہ کی طرح  حزب اللہ کو  دہشتگرد گروپ  قرار دینے سے  اب تک گریز کرتا ہے.حزب اللہ نے  طاقت میں اضافہ کر کے متوازی حکومت کی حسیت حاصل کر لی ہے .اس کے اپنے میڈیالیٹس اکاونٹ ہیں.

فرانس کی کوشش ہے کہ حکومت کی سنجیدہ اور اس کے ساتھ ٹھوس کوشش جانی چاہیں. اگر اصلاحات کے حوالے سے  سنجیدگی نہ ہوی تو  متوسط تبقعے کا خاتمہ ہو جاۓ گا. اس کے بعد ملک صرف اور صرف تباہی رہ جاۓ گی.اور یہ سب کچھ  ایک  عام ادمی کے لیے بہت ہی تباہ کن ہوگا.

Reactions

Post a Comment

1 Comments